Stories for Kids in Urdu – Urdu Kahani 2- Bachon Ki Dilchasp Kahaniyan

اداس آنکھیں

میں آج کلاس میں آئی تو سب سے پیچھےایک نیا بچہ جس کی عمر کوئی نو یا دس سال ہوگی  خاموش بیٹھا تھا اس کی آنکھوں میں  کچھ ایسی ایسی اداسی تھی کہ اس کی آنکھوں نے  مجھے باربار اپنی طرف متوجہ کیا ۔ وہ بچہ نا کسی دوسرے بچے سے بات کررہا تھا اور ناکتابوں کی طرف دیکھ رہا تھا بلکہ یوں محسوس ہوتا تھا کہ وہ کلاس میں موجود ہی نہیں ہے۔

میں کئی سالوں سے یتیم خانے سے متصل اسکول میں تدریس  کے فرائض ادا کررہی تھی ۔ یہاں ہر بچےکی اپنی الگ ہی کہانی تھی ۔ جس کو سن کر دل رونے لگتا ۔

میں نے کلاس ختم کرکے اسٹاف روم میں گئی اور وہاں پر موجود انچارج سے اس بچے کے متعلق پوچھا۔

تو اس نے بتایا کہ یہ بچہ اچھے کھاتے پیتے گھرانے سے تعلق رکھتا تھا ۔ اس کے ماں باپ تھے اور ایک چھوٹی بہن تھی ۔ ایک دن سب بازار شوپنگ کرنے گئے تووہاں بم دھماکہ ہوا اور اس کے ماں باپ اور بہن کا انتقال ہوگیا اور یہ بچہ تھوڑا زخمی ہوا ۔

جب یہ  ہسپتال سے ٹھیک ہوکر گھر آیا تو اس کے رشتہ داروں نے اس کے گھر پر قبضہ  کرلیا تھا اور اس کو یہاں یتیم خانےمیں چھؤڑ گئے ۔

مجھےیہ سب سن کر بہت افسوس ہوا ۔

دوسرے دن وہ لنچ بریک میں ایک پینج پربیٹھا نظر آیا ۔ میں اس کے پاس جاکر بیٹھ گئی اس سے ادھر ادھر کی باتیں کرنے لگی ۔ کوئی کہانی سناتی

اسکول کے قصے سناتی ۔ لیکن بظاہر وہ کوئی توجہ نا دیتا  لیکن مجھے معلوم تھا کہ وہ میری باتیں سنتا تھا ۔

اسی طرح میں روز اس کے پاس جاتی اور اس سے باتیں کرتی۔ اب اتنا فرق آیا کہ وہ مجھے دیکھنے لگا اور میری باتیں توجہ سے سنتا ۔

ایک دن وہ مجھے کہنے لگا کہ مس آپ بہت اچھی ہیں لیکن ۔۔۔۔۔۔

لیکن کہتے ہوئے اس کی آنکھوں میں آنسو آگئے ۔

میں اس کی طرف غور سے دیکھ کر پوچھا لیکن کیا ۔

لیکن میری امی جیسی نہیں ۔

میں نے پوچھا تمھاری امی کیسی تھیں ۔

تو وہ بولا میری امی مجھ سے بہت محبت کرتیں تھیں ۔ یہ بولتے ہوئے وہ کسی اور ہی دنیا میں پہنچ گیا تھا ۔

میں نے اس سے کہا بےشک ماں سے ذیادہ محبت اس دنیا میں کوئی نہیں کرسکتا ہے ۔

لیکن ایک ہستی ہے جو ہم کو ہماری ماں سے بھی کہیں ذیادہ محبت کرتی ہے۔

وہ میری طرف حیران ہوکر دیکھنے لگا ۔ جیسے پوچھ رہا ہو کہ کون

میں نے کہا اللہ تعالیٰ ، اللہ ہم سے ہماری ماں سے ذیادہ محبت کرتا ہے ۔ وہ ہم کو اس وقت تھامتا ہے جب ہم اکیلے ہوتے ہیں ۔

اللہ کے ساتھ ہم اس زندگی کا سفر آسانی سے گزار سکتے ہیں۔

اس کو جیسے میری باتیں سمجھ آرہی ہیں ۔ اس کی آنکھوں میں میں نے زندگی کی چمک اور امید دیکھی ۔

جو اس کو آگے بڑھنے اور زندگی گزارنے میں مدد دیتی ۔

======

سچی خوشی

 میں اپنے کھلونوں سے کھیل رہا تھا کہ روزانہ کی طرح ماسی(گھر میں کام کرنے والی)   کا بیٹا کمرے کے کونے پر  آکر بیٹھ گیا اورمجھے دور سے کھلونوں سے کھیلتا  دیکھنے  لگا ۔ وہ میرا ہم عمر تھا اور روزانہ  ماسی کے ساتھ  صبح صبح ہمارے گھر آتا تھا جتنی دیر ماسی گھر کا کام کرتی وہ  خاوشی سے کمرے کے کونے میں بیٹھا رہتا ۔ میں اسی کمرے میں اپنے کھلونوں سے کھیل رہا ہوتا تھا لیکن  اس پرایک نظر سے ذیادہ کبھی نہیں ڈالتا ۔ وہ  جب تک وہاں بیٹھا رہتا مجھے حسرت بھری نگاہوں سے مجھے  تکتا رہتا تھا لیکن میں نے کبھی اس پر توجہ نہیں دی ۔

میری اس بات کو اور بچے کے رویے کو دادا ابو دیکھتے رہتے تھے ۔ ایک دن رات کے کھانے کے بعد دادا ابو نے مجھے اپنے کمرے میں بلایا اور کہا کہ بیٹا آپ ماسی کے بیٹے سے دوستی کیوں نہیں کرتے وہ بچہ تو آپ کا ہم عمرہے ۔ میں نے دادا ابو سے کہا کہ وہ تو ماسی کا بیٹا ہے میں اس سے دوستی کیسے کروں ۔

دادا ابو نے کہا گھروں میں کام کرنا اس کی ماں کا پیشہ ہے اس کی ماں محنت مزدوری کرکے حلال روزی کماتی ہے ہم کو اس کی اور اس کے بیٹے کی عزت کرنی چاہیے نا کہ اس کے بیٹے کو حقیر سمجھیں ۔ اور اگر وہ بچہ غریب گھرمیں پیدا ہوا ہے تو اس میں اس بچے کا کیا قصور ہے ۔ اس میں اور آپ کے باقی دوستوں میں کوئی فرق نہیں ۔ اگر وہ اسکول نہیں جاتا ہے تو تھوڑا وقت دے کر آپ اس کو پڑھا دیا کریں ۔

بیٹا یاد رکھوں دوسروں کو خوشیاں باٹنے سے ہی سچی خوشی ملتی ہے ۔

مجھے دادا ابو کی بات سمجھ آگئی تھی ۔ دوسرے دن جب ماسی کا بیٹا کمرے کے کونے پر آکر بیٹھا تو میں اپنی جگہ سے اٹھ کر گیا اور اس کی طرف اپنا ہاتھ بڑھا کر بولا مجھ سے دوستی کرو گے ۔ اس کے چہرے پر ایسی خوشی کے رنگ دیکھے کہ مجھے بھی بہت خوشی محسوس ہوئی۔  ہم دیر تک کھلونوں سے کھیلتے رہے ۔ یوں تو میں روز ہی نت نئے کھلونوں سے کھیلتا تھا لیکن اس دن کھیلنے کے بعد جو خوشی محسوس ہوئی اس کا احساس پہلے کبھی نہ ہوا تھا۔

دادا ابو ٹھیک کہتےہیں دوسروں کو خوشیاں دینے سے  ہی سچی خوشی ملتی ہے

======

جھگڑے کا انجام

کسی دور دراز علاقے میں ایک ہرا بھرا جنگل تھا۔ اس جنگل میں  جنگل میں  بلی اور اس کے بچے رہتے تھے۔  جنگل میں ہر طرف امن و امان تھا اس لیے بچے کھیلنے کے لیے اکثر جنگل میں دور تک نکل جاتے  تھے۔ ایک روز حسب معمول  دونوں بچے کھیلتے کھیلتے  جنگل میں دور تک نکل گئے۔  شام ہونے لگی تو بڑے بچ نے چھوٹے سے کہا کہ آؤ اب لوٹ چلتے ہیں ۔

جب واپس گھر  کے لیے لوٹ رہے تھے تو راستے میں انہیں پنیر کا ایک ٹکڑا ملا ۔  دونوں بچوں نے اسے آپس میں برابر برابر تقسیم کرنے پر اتفاق کیا۔ جب بڑے بچے نے پنیر کو درمیان سے توڑ کر دو ٹکڑے کیے لیکن پنیر دو برابر حصوں میں تقسیم نہیں ہوا بلکہ ایک ٹکڑا  چھوٹا اور دوسرا بڑا ہو گیا ۔  اب دونوں اس بات پر جھگڑنے لگے کیوں کہ کوئی بھی چھوٹا ٹکڑا لینے پر راضی نہیں تھا ۔کا فی دیر  ہو گئی لیکن  ان کا یہ جھگڑا ختم نہیں ہوا  اتنے میں وہاں سے ایک لومڑی کا گزر ہوا۔

لومڑی نے جب دونوں کو جھگڑتے دیکھا تو پاس آ کر ان سے پوچھا کہ کیا ماجرا ہے، کس بات پر جھگڑ رہے ہیں۔ بچوں نے پنیر کا سارا قصہ اور جھگڑ کی وجہ بیان کر دی۔

لومڑی بہت چالاک تھی ۔ پنیر دیکھ کر اس کے منہ میں پانی آ گیا اور اس نے دل ہی دل میں سارا پنیر ہڑپ کرنے کا فیصلہ  کر لیا۔

لومڑی نے ایک ترازو لایا اور اس کے دونوں پلڑوں میں پنیر کے دونوں ٹکڑے رکھے۔ جس جانب بڑا ٹکڑا رکھا تھا وہ بھاری ہو گیا ۔ لومڑی نے اس کو چھوٹے کے برابر کرنے کے لیے اس میں سے تھوڑا سا کھا لیا۔ اب جب دوبارہ تولا تو جو پہلے چھوٹا اور ہلکا تھا اب وہ بھاری ہو گیا۔ اس طرح ہر بار لومڑی نے دونوں ٹکڑوں کو برابر کرنے کے لیے باری باری کھانا شروع کیا اور بالآخر وہ سارا ہی پنیر ہڑپ کر گئی۔

جب دونوں بچوں نے لومڑی کی چالاکی دیکھی تو انہیں احساس ہوا کہ پہلے جو تھوڑا مل رہا تھا اب اس سے بھی ہاتھ دھونا پڑا، اور اس کی اصل وجہ زیادہ لینے کے لیے جھگڑا کرنا تھا۔ اگر دونوں بچے اپنے اپنے حصے پر راضی ہو  جاتے اور آپس میں پیار محبت سے پنیر کو بانٹ کر کھاتے تو لومڑی کی چالاکی سے محفوظ رہتے۔

اس سے یہ سبق ملتا ہے کہ جو کچھ بھی مل رہا ہو چاہے تھوڑا ہو خوشی سے لے لینا چاہیے اور آپس میں جھگڑنا نہیں چاہیے۔ کیوں کہ اس طرح جھگڑنے سے وہ چیز بھی ہاتھ سے چلی جاتی ہے اور دو بھائیوں کے جھگڑے سے دوسرے لوگ فائدہ اٹھا جاتے ہیں۔

 —–

خاموشی میں نجات

کسی دور دراز علاقے میں پانی کا ایک چھوٹا سا تالاب تھا۔ اس تالاب میں ایک کچھوا رہتا تھا۔ اس تالاب کے کنارے دو کونجیں پانی کی تلاش میں آ پہنچیں اور یہیں ڈیرے ڈال لیے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ کچھوے اور کونجوں میں دوستی ہو گئی۔ اور ان کا وقت ہنسی خوشی گزرنے لگا۔

ایک دفعہ ایسا ہوا کہ کافی عرصہ بارشیں نہیں ہوئیں، تالاب کا پانی آہستہ آہستہ خشک ہونے لگا۔ اب کچھوے اور کونجوں کو فکر لاحق ہو گئی کہ پانی ختم ہو گیا تو پھر گزر بسر کیسے ہو گی۔

اور پھر ایسا ہی ہوا، بارش نہ ہونے کی وجہ سے تالاب کا پانی خشک ہو گیا۔ فیصلہ یہ کیا گیا کہ اب یہاں سے کوچ کا وقت آ چکا ہے، اب پانی کی تلاش میں نکل جانا چاہیے اور جہاں کوئی تالاب ملے وہاں ڈیرے ڈالنے چاہییں۔

اب مسئلہ یہ درپیش تھا کہ کونجیں تو اڑ کر چلی جائیں گی لیکن کچھوے کو اتنے دور تک کیسے لے کر جایا جائے۔ اور دوستی اتنی اچھی تھی کہ ایک ساتھی کو تنہا چھوڑ کر چلے جانا بھی گوارا نہیں تھا۔ بالآخر کچھوے  کے ذہن میں ایک ترکیب آئی جس کی مدد سے وہ بھی کونجوں کے ساتھ جا سکتا تھا۔

اس نے کچوے سے  کہا کہ آپ دونوں ایک لکڑی اپنے پنجوں میں مضبوطی سے پکڑ لیں گے اور میں اپنے منہ سے اس کو مضبوطی سے پکڑے رکھوں گا اس طرح ہم تینوں کسی نئی منزل پر پہنچ جائیں گے۔ کچھوے کی یہ ترکیب سب کو پسند آئی۔ دونوں کونجوں نے لکڑی کو پنجوں میں جکڑ لیا اور کچھوے نے منہ سے اس لکڑی کو مضبوطی سے پکڑ لیا۔ کونجوں نے اڑان بھری اور کچھوا بھی ان کے ساتھ ہی ہوا میں بلند ہو گیا اور وہ اپنی نئی منزل کی جانب روانہ ہو گئے۔ کونجوں کو پتہ تھا کہ کچھوا یک تو بولتا بہت زیادہ ہے اور اپنی تعریف کا کوئی موقع ضائع نہیں ہونے دیتا۔ اس لیے انہوں نے اڑنے سے پہلے اسے نصیحت کر دی تھی کہ راستے میں کچھ بھی ہو جائے آپ نے بولنا نہیں ہے اور خاموش رہنا ہے کیوں کہ جسیے ہو بولنے کی کوشش میں منہ کھولا تو لکڑی چھوٹ جائے گی اور جا کر نیچے گریں گے۔

راستے میں جب لوگوں نے دیکھا کہ کس طرح دو پرندے اپنے ساتھی کو بھی اپنے ساتھ لے کر جا رہے ہیں تو انہوں نے کونجوں کی عقل مندی کی داد دینا شروع کر دی کہ کچھوے کو ساتھ لے کر جانے کی کتنی بہترین ترکیب اختیار کی ہے۔

کچھوے نے جب سنا کہ لوگ اس ترکیب کی داد اس کے بجائے کونجوں کو دے رہے ہیں تو اس سے رہا نہیں گیا اور اس نے یہ بتانے کے لیے کہ یہ ترکیب میں نے بتائی تھی منہ کھول دیا، جیسے ہی منہ کھولا تو لکڑی اس کے منہ سے چھوٹ گئی اور وہ  دھڑام سے آ کر نیچے گرا اور دم توڑ گیا۔

اگر وہ خاموشی اختیار کرتا اور اپنے دوستوں کی تعریف برداشت کر لیتا تو یہ دن نہ دیکھنے پڑتے۔ اسی لیے کہتے ہیں کہ بے موقع بولنے سے پرہیز کرنا چاہیے اس سے نقصان ہو سکتا ہے اور خاموشی ایک نعمت ہے۔ کہاوت مشہور ہے کہ “ایک چپ سو سکھ”.

—–

اعتماد

میں نے سگنل کی بتی لال ہونے پر جیسے ہی گاڑی روکی ایک بچہ ہاتھوں میں چند گجرے اٹھائے میری گاڑی کی طرف آیا ۔ میرا موڈ گجرے لینے کا نہیں تھا اس لیے میں نے دس روپے اس بچے کو دیتے ہوئے گجرے لینے سے انکار کیا تو بچے نے میرے پیسے واپس کرتے ہوئے کہا باجی میں بھکاری نہیں ہوں ۔

اس کی بات سن کر میں نے  ایک دم چونک کر اس بچے کو دیکھا جس کی آنکھوں میں ذہانت اور خود اعتمادی جھلک رہی تھی ۔

اتنے میں سگنل کھل گیا ۔ اور مجھے وہاں سے جانا پڑا ۔ لیکن میرا ذہن اس بچے میں ہی الجھا ہوا تھا

ساتھ بیٹھی میری دوست میری الجھن کو سمجھتے ہوئے بولی ۔

تم ذیادہ اس بچے سے متاثر نا ہو یہ بھی ایک طریقہ ہے ان لوگوں کا ، ایک بار ایمانداری کا ڈھونگ کرتے ہیں اور بعد میں پیسے بٹورتے ہیں ۔

ان سب باتوں کے  باوجود میرا دل اس بچے میں ہی اٹکا ہوا تھا ۔

دوسرے دن وہ بچہ اسی سگنل پر دوبارہ نظر آیا ۔ اس بار میں نے اس سے گجرے خرید لیے ۔

اسی طرح روز میں اس سے گجرے خرید لیا کرتی تھی ۔

ایک دن وہ بچہ مجھے سگنل کراس کرنے کے بعد کھڑا نظر آیا ،اور میری گاڑی کی طرف اپنے ہاتھ سے روکنے کا اشارہ کررہا تھا ۔

میں نے گاڑی روکی تو آکر مجھے سلام کرکے بولا ، باجی آپ سے ایک بات کرنی ہے۔

میں نے کہا کہ بولو۔

تو وہ کسی اچھے سے بزنس مین کی طرح اپنا منصوبہ مجھے بتانے لگا۔

باجی میں اخبار اور رسائل بیچنے کا کام کرنا چاہتا ہوں اس میں منافع ذیادہ مل جائے گا ۔

اگر مجھے پہلی بار اخبار اور رسائل خریدنے کے پیسے آپ ادھار دیے دیں تو میں اخبار بکنے پر آپ کی رقم لوٹادوں گا۔

میں نے اس کو پانچ سو روپے دیے اور کہا کہ میں تم کو قرض دے رہی ہوں ۔ یہ تم نے واپس کرنے ہونگے ۔

میری دوست نے جب یہ سب دیکھا تو بولی دیکھا میں نے کہا تھا یہ ان کی چال ہوتی ہے۔ اب اس نے بٹور لیے پیسے اور وہ واپس کرنے والا نہیں۔

لیکن میرا دل کہتا تھا کہ وہ واپس ضرور آئے گا۔

اسی طرح دن گزرتے گئے وہ اب  سگنل پر بھی نظر نہیں آتا تھا ۔

میرا اعتماد متزلزل ہونے لگتا تو میں اپنے دل کو یقین دلاتی کہ وہ واپس ضرور آئے گا انشاءاللہ

ایک  دن میں اسی سگنل سے گذر رہی تھی تو وہ بچہ مجھے سامنے کھڑا نظر آیا جو مجھے  ہاتھ دکھا کر رکنے کا اشارہ کررہاتھا ۔

میں نے گاڑی روکی تو مجھ سے کہنے لگا کہ باجی اب میں نے اخباربیچنے کا کام شروع کردیا ہے اس میں منافع ذیادہ ہےاور یہ کام میں گھر کے قریب ہی کرلیتا ہوں اس لیے یہاں نہیں آپاتا ۔

آج میں یہاں خاص طور پر آپ سے ملنے ، آپ کا شکریہ ادا کرنے اور آپ کے پیسے واپس کرنےکے لیے آیا ہوں

یہ کہہ کر اس نے پانچ سو کا نوٹ میری طرف بڑھا دیا۔

—–

(تحریر: سحر)

Categories :

Comments are closed.

Translate »