Stories for Kids in Urdu – Urdu Kahani 3- Bachon Ki Kahaniya

محنت  سے  زندگی ہے

ایک رات کا ذکر ہے کہ ایک بالٹی میں دو مینڈک گر گئے جو دودھ سے آدھی بھری ہوئی تھی ۔ دونوں مینڈک بالٹی میں ادھر ادھر چھلانگیں لگانے لگے  اور تیرنے لگے ۔ تھوڑی دیر بعد جب انہیں محسوس ہوا کہ وہ تو بالٹی میں پھنسے ہوئے ہیں اور باہر کا کوئی راستہ  نہیں تو انہوں نے وہاں سے نکلنے کی کوشش شروع کر دی ۔  لیکن بالٹی میں چونکہ دودھ تھا اس لیے اندر سے اس دی دیواریں بہت چکنی تھیں جس کی وجہ سے پھسلن بہت زیادہ تھی۔ بالٹی میں ایسی کوئی جگہ نہیں تھی جس  پر وہ اپنے ناخن پنسا کر باہر نکلنے کی کوشش کرتے۔

جب کافی دیر تک کوشش کرنے کے بعد بھی باہر کا کوئی راستہ سجھائی نہ دیا تو ایک مینڈک ہمت ہار گیا، اس نے سوچا کہ اب مزید محنت کرنا بیکار ہے اور اب موت یقینی ہے۔ چونکہ تھکا  ہوا بہت تھا، مزید تیرنے کی ہمت نہ تھی اس لیے بالٹی میں ڈوب گیا اور مر گیا۔

لیکن دوسرا مینڈک  پر امید تھا۔ اس نے حوصلہ نہیں ہارا اور مسلسل محنت جاری رکھی۔ اسے امید تھی کہ یہاں سے نجات کا کوئی نہ کوئی راستہ ضرور نکل آئے گا، اسی امید پر اس نے ہمت نہ ہاری اور مسلسل کوشش کرتا رہا۔ وہ بالٹی میں مسلسل تیرتا رہا اور باہر نکلنے کی تدبیر کرتا رہا۔

بالٹی میں چونکہ دودھ تھا اور دودھ بھی ملائی سے بھرپور تھا ۔ جب کافی وقت گزر گیا  اور مینڈک اس میں مسلسل حرکت کرتا رہا تو دودھ گاڑھا ہو کر دہی کی طرح بن گیا۔ جب مینڈ ک مزید تھوڑی دیر اپنی مشق جاری رکھی تو دودھ مزید گاڑھا ہو گیا اور مکھن کے پیڑے کی مانند ہو گیا۔مکھن چونکہ اوپر تیرتا ہے لہذا  اب مینڈک اس مکھن کے پیڑے پر بیٹھ کر سستا سکتا تھا۔ اس نے وہاں بیٹھ کر کچھ دیر اپنی سانس بحال کی اور پھر ایک ہی چھلانگ میں بالٹی سے باہر جا گرا اور ایک نئی زندگی پا لی۔

اگر یہ مینڈک بھی پہلے مینڈک کی طرح ہمت ہار جاتا تو اس کی موت بھی یقینی تھی۔ لیکن اس کی مسلسل محنت اور لگن نے اسے نئی زندگی عطا کی۔

—–

نعمتوں کا شکر

سارہ بہت پیاری بچی تھی ۔ سچ بولتی ،بڑوں کا ادب کرتی سب سے محبت و اخلاق سے پیش آتی اس وجہ سے  سب اس کو پسند کرتےتھے ۔ ان تمام خوبیوں کے ساتھ ساتھ اس میں ایک برائی بھی تھی وہ یہ کہ وہ نماز نہیں پڑھتی تھی ۔ اس کی امی اس کو بارہا سمجھاتیں کہ بیٹا اللہ نے ہم کو بے شمار نعمتوں سے نوازا ہے ہم پر فرض ہے  کہ ہم اللہ کا شکر ادا کریں ۔ کہیں ایسا نا ہو کہ اللہ ہم سے ناراض ہوجائے ۔

امی کی سب باتیں سن کر وہ لاپروائی سے کہتی  نہیں امی اللہ تعالیٰ ہم سے ناراض نہیں ہونگے ۔

لیکن نماز پڑھنے میں ہمیشہ کی طرح لاپروائی برتتی ، امی سمجھا سمجھا کر تھک گئیں تھیں ۔وہ دن بھر کبھی یہاں کبھی وہاں بھاگتی ، دوڑتی رہتی ۔ ہر وقت کھیلتی کودتی رہتی ۔

ایک وہ سیڑھیاں اترتے ہوئے نیچے آرہی تھی کہ اس کا پاوں مڑ گیا ،اور پاوں میں موچ آگئی ۔ پاوں میں تکلیف سے وہ رونے لگی ۔امی ابو سب دوڑے ہوئے آئے اس  کو گود میں اٹھا کر نیچے تخت پر بٹھایا اور کریپ بیٍیڈیج سے پٹی کردی ۔ وہ تخت پر ہی بیٹھی رہتی  وہ پاوں زمین پر رکھتی تو تکلیف کی وجہ سے واپس اوپر کرلیتی ۔

اسی طرح کافی دیر وہ وہیں بیٹھی رہی ۔ اس کو تو ایک جگہ بیٹھے رہنے کی عادت ہی نہیں تھی سارا دن وہ اچھلتی  کودتی رہتی تھی ۔

اسی طرح شام ہوگئی ۔ امی ، ابو بہن بھائی سب اپنے اپنے کاموں میں مصروف ہوگئے ۔

اس کو پیاس لگی سامنے کوئی تھا نہیں فریج سامنے تھوڑی دور تھا ۔ اس نے سوچا کہ وہ خود ہی جاکر پانی پی آتی ہے ۔ وہ دوسرے پاوں سے اچھلتی اچھلتی فریج تک گئی اور پانی پی کر واپس آرہی تھی کہ اسے خیال آیا کہ صرف  ایک پاوں کے کام نا کرنے کی وجہ سے  اس کو کتنی تکلیف کا سامنا ہے کہ وہ پانی تک پینے کے لیے اتنی تگ و دو کرنی پڑرہی ہے ۔

اللہ نے اس کو کتنی نعمتیں دیں ۔ دیکھنے کے لیے آنکھیں ، بولنے کو زبان ، سننے کوکان ، کام کرنے کو ہاتھ ، اور چلنے کو پاوں ۔

اگر خدانخواستہ یہ نعمتیں ہم سے چھن جائیں تو ہم کیا کریں گے ۔ ہم تو اللہ کا جتنا بھی شکر ادا کریں کم ہے ۔

یہ سوچ کر وہ رونے لگی اور اللہ سے توبہ کی  اور پکا ارادہ کیا کہ اب وہ پانچوں وقت کی نماز ادا کرے گی انشاءاللہ اور ہر پل اللہ کا شکر ادا کرے گی

—–

( تحریر :سحر)

Categories :

Comments are closed.

Translate »