Stories for Kids in Urdu – Urdu Kahani 1 – Bachon Ki Kahaniyan

چڑیا کے بچوں کی کہانی

کسی جنگل میں ایک ہرے بھرے درخت پر چڑیا کا گھونسلہ تھا۔ اس میں چڑیا اور اس کے تین چھوٹے چھوٹے بچے رہتے تھے۔ اس درخت اور چڑیا کی آپس میں دوستی تھی اور جب چڑیا اپنے بچوں کے لیے دانہ دنکا اکٹھا کرنے نکلتی تو درخت بچوں کی دیکھ بھال کرتا تھا۔
ایک دن موسم بہت خوشگوار تھا، ہوا کے ہلکے ہلکے جھونکوں سے درخت کی ٹہنیاں لہرا رہی تھیں، سورج کی کرنیں مشرق سے ابھر رہی تھیں اور دنیا کی ہر چیز میں زندگی کے آثار نمایاں ہونا شروع ہو رہے تھے۔
چڑیا نے جیسے ہی آنکھ کھولی تو درخت نے اسے صبح بخیر کہا۔ چڑیا نے بھی جوابا اس کا حال پوچھا۔
درخت نے دریافت کیا کہ بچے ابھی نہیں جاگے
چڑیا نے جواب دیا کہ نہیں، ان کی دیر سے سونے کی عادت ہے۔ میں نے انہیں سوتا چھوڑ دیا ہے اور ان کے ناشتے کا بندوبست کرنے جا رہی ہوں۔
درخت نے چڑیا کو تسلی دی اور کہا کہ بے فکر ہو کر جائیے میں ان کا دھیان رکھ لوں گا۔
چڑیا نے بچوں پر شفقت بھری نگاہ ڈالی، اپنے پر پھڑ پھڑائے اور فضا میں غائب ہو گئی۔
بچے گرم گرم گھونسلے میں سوتے رہے، جب سورج بلند ہوا اور اس کی تپش میں شدت آئی تو ان کی آنکھ کھلی۔ اٹھ کر دائیں بائیں دیکھا تو ان کی ماں موجود نہیں تھی۔
کافی دیر تک ماں کا انتظار کرتے رہے لیکن وہ نہیں لوٹی
بھوک بھی ستا رہی تھی اور خوف بھی تھا کہ ماں کسی شکاری کے ہاتھ نہ لگ گئی ہو۔ بچے ماں کی سلامتی کی دعائیں مانگنے لگے۔
جب درخت نے بچوں کی بات سنی تو اسے بھی خوف لاحق ہوا لیکن اس نے اپنے احساسات کو چھپایا اور بچوں کو تسلی دی کہ بچو پریشان نہ ہو، آپ کی ماں جلد لوٹ آئے گی۔ اس نے دیر لگا دی ہے لیکن رزق کا حصول آسان کام نہیں، جب تم بڑے ہو گے تب تمہیں احساس ہو گا۔ یہ سن کر بچے خاموش ہو گئے۔

بڑا بچہ اپنی ماں کی واپسی کا انتظار کرنے کے لیے گھونسلے کے کنارے پر جا بیٹھا۔
جب بڑا بچہ اٹھا تو اس کے نیچے سے ایک دانہ نکلا جس پر چھوٹے بچے کی نظر پڑی تو وہ خوشی سے چلا اٹھا کہ یہ دیکھو گندم کا دانہ
بڑا بچہ بولا کہ یہ میرے نیچے تھا اس لیے یہ میرا ہے اور آپ اسے نہیں لے سکتے
چھوٹے نے جواب دیا کہ اس پر پہلے میری نظر پڑی تھی اس لیے میرا ہے۔
دونوں بچے آپس میں جھگڑنے لگے اور منجھلا بیٹھ کر تماشا دیکھنے گا۔
درخت نے جب بچوں کو جھگڑتے دیکھا تو صلح کروانے کی بھرپور کوشش کی لیکن کوئی فائدہ نہ ہوا اور بچے جھگڑتے رہے۔
درخت نے منجھلے سے کہا کہ اپنے بھائیوں کو سمجھاؤ اور جھگڑا ختم کرواؤ
منجھلے نے جواب دیا کہ میں ایسے معاملات میں مداخلت نہیں کرتا جن میں میرا کوئی فائدہ نہیں یا جس کا مجھ سے تعلق نہ ہو۔
درخت نے سمجھایا کہ اس سے تمہارا تعلق ہے کیوں کہ یہ تمہارا گھونسلہ ہے اور تم اس گھونسلے میں سکون سے نہیں رہ سکو گے جس میں جھگڑا ہو رہا ہو۔ یہ تمہارا اپنا گھر ہے اور اس کی حفاظت کی ذمہ داری تم سب پر ہے۔
درخت نے سمجھانے کی بھرپور کوشش کی لیکن بے سود۔ درخت نے جب دیکھا کہ اس پر کسی بات کا کوئی اثر نہیں ہو رہا تو وہ خاموش ہو گیا۔
جھگڑا جاری رہا ، ایک چونچ مارتا تھا تو دوسرا پنجے
جب دونوں تھک گئے تو چھوٹے بچے نے ایک سخت تنکا اٹھا کر بڑے کو مارنا چاہے لیکن وہ پہلو بدل گیا اور تنکا جا کر منجھلے کی آنکھ میں لگا۔
منجھلا درد سے چلانے لگا۔
اب چھوٹا بچہ آیا اور منجھلے کو چپ کرانے لگا، بڑا آیا اور اس کی آنکھ مسلنے لگا
جب در د کچھ کم ہوا تو منجھلے کو درخت کی وہ بات یاد آئی جو درخت نے تھوڑی دیر پہلے کہی تھی کہ تم ایسے گھر میں سکون سے نہیں رہ سکتے جس میں جھگڑا اور فساد ہو ۔
پھر منجھلے نے دونوں میں صلح کروائی، چھوٹے نے بڑے سے معافی مانگی اور بڑے نے اسے معاف کر دیا اور وہ ہنسی خوشی کھیلنے لگے۔
درمیانے نے کہا کہ وہ دانہ لائیں جس پر آپ لوگ جھگڑ رہے تھے میں اسے آپ کے درمیان آدھا آدھا تقسیم کر دیتا ہوں
دانہ تلاش کیا تو نہیں مل سکا، چھوٹے نے کہا شائد وہ گھونسلے سے نیچے گر گیا ہے، اس پر تینوں افسردہ ہو گئے
درخت نے انہیں سمجھایا کہ دانے کے گم ہونے پر افسردہ نہ ہو
بچوں نے کہا کہ ہمارا دانہ کھو گیا ہے اور آپ کہتے ہیں نہ کہ افسوس نہ کریں
درخت نے انہیں سمجھایا کہ جو محبت اور پیار تمہارے درمیان لوٹ آیا ہے وہ اس دانے سے زیادہ قیمتی ہے۔ بچوں کو درخت کی یہ بات سمجھ آ گئی
درخت نے انہیں کہا کہ اب تمہاری ماں کے آنے کا وقت ہونے والا ہے، گھونسلے کو درست کر لو۔ تمہارے والد نے بڑی محنت سے اس کو بنایا تھا اور تم آپس کے اختلاف کی وجہ سے اسے برباد کر رہے ہو۔
سارے بچے ایک دوسرے کی مدد سے گھونسلے کو سنوارنے لگے، ابھی وہ گھونسلہ ترتیب دے کر فارغ ہی ہوئے تھے کہ درخت کی آواز سنائی دی
تمہاری ماں آ گئی ہے، تمہاری ماں آ گئی ہے

دیکھا بچو- اپنے گھر کے معاملات کو اپنا نہ سمجھنے کا نقصان، اگر منجھلا شروع ہی سے گھر کے سکون کو اپنا سکون سمجھتا اور بھائیوں کے درمیان جھگڑا ختم کرانے کی کوشش کرتا تو اس کی آنکھ میں تنکا نہ لگتا اور نہ گھر ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوتا ۔

—–

شرارت کی سزا

حیدر اپنے والدین کا اکلوتا اور لاڈلا بیٹا تھا لیکن انتہا درجے کا شرارتی تھا۔ حیدر اور اس کا خاندان شہر سے دور ایک گاؤں میں رہتے تھے۔ گاؤں سے شہر تک کوئی پکی سڑک بھی نہ تھی اور نہ ہی سواری کا کوئی انتطام تھا۔ آمد و رفت کے لیے گھوڑا گاڑی یا ٹانگے کا استعمال کیا جاتا تھا۔ روز مرہ کا سودا سلف وغیرہ تو گاؤں کی اکلوتی دکان سے مل جاتا تھا لیکن جب کوئی بیمار ہو جائے یا کوئی شدید نوعیت کا زخم لگ جائے تو پھر شہر جا کر ہی علاج کروانا پڑتا تھا۔

گاؤں کے چوہدری صاحب بہت نیک اور رحم دل انسان تھے، اللہ نے انہیں مال و دولت سے بھی نوازا تھا۔ گاؤں والوں کا کوئی بھی مسئلہ ہو یا کسی شخص کو کوئی بھی حاجت ہو تو چوہدری صاحب ہر وقت مدد کے لیے تیار رہتے تھے۔ اگر کبھی کسی کو اچانک علاج کے لیے شہر جانا پڑ جاتا تو چوہدری صاحب کی گاڑی  ہی بطور ایمبولینس استعمال ہوتی تھی، کیوں کہ اس کے علاوہ اور کوئی سہولت میسر نہ تھی۔

حیدر چونکہ فطری طور پر شرارتی تھا اس لیے ہر وقت اس کا ذہن نئی سے نئی شرارت سوچنے میں مصروف رہتا۔ ایک دن جب چوہدری صاحب ظہر کی نماز پڑھنے مسجد گئے اور ان کی گاڑی باہر کھڑی تھی تو حیدر کے ذہن میں شرارت سوجھی کہ کیوں ناں آج چوہدری صاحب کی گاڑی کے ٹائر سے ہوا نکالی جائے۔

حیدر نے دائیں بائیں جائزہ لیا اور جب یقین ہو گیا کہ کوئی نہیں دیکھ رہا تو اس نے جا کر گاڑی کے ایک ٹائر سے ہوا نکالی اور دوڑ کر اپنے گھر کی چھت پر چڑھ گیا تا کہ جب چوہدری صاحب واپس آکر دیکھیں گے تو ان کی جو حالت ہو گی اس کا تماشا دیکھ سکے۔

چوہدری صاحب نماز سے فارغ ہو کر آئے اور گاڑی میں بیٹھ گئے، ٹائر کی جانب ان کا دھیان نہیں گیا۔ جب گاڑی اسٹارٹ کر کے  چلانے کی کوشش کی تو محسوس ہوا کہ کچھ گڑ بڑ ہے۔

نیچے اتر کر دیکھا تو کیا دیکھتے ہیں کہ ایک ٹائر کی ہوا مکمل طور پر نکلی ہوئی ہے۔ بہت پریشان ہوئے کیوں کہ گاؤں میں پنکچر لگانے یا ٹائر تبدیل کرنے کی کوئی سہولت نہ تھی۔

حیدر چھت پر کھڑا چوہدری صاحب کی اس پریشانی کا تماشا دیکھ رہا تھا اور دل ہی دل میں خوش ہو رہا تھا۔ اسی خوشی میں وہ دوڑتا ہوا نیچے اترا تا کہ جا کر اپنے دوستوں کو اپنے اس کارنامے کے بارے میں بتا سکے، سیڑھیوں سے تیزی سے اترتے ہوئے اس کا پاؤں پھسلا اور وہ لڑھکتا ہوا جا کر نیچے گرا۔ اس گرنے سے اسے سخت چوٹیں بھی آئیں اور پاؤں میں شدید موچ آ گئی۔ گاؤں میں اتنے گہرے زخموں کی مرہم پٹی اور علاج کی کوئی سہولت نہ تھی اس لیے فوری طور پر شہر جانا ضروری تھا۔

حیدر کا بھائی سعد بھاگا بھاگا چوہدری صاحب کے گھر گیا کہ ان سے درخواست کر سکے کہ حیدر کو گاڑی میں فورا شہر لے چلیں کیوں کہ وہ شدید زخمی ہے۔ چوہدری صاحب کے گھر پہنچا تو پتہ چلا کہ وہ نماز کے بعد ابھی تک گھر نہیں لوٹے، حیدر کا بھائی سعد دوڑتا ہوا مسجد گیا تو دیکھا کہ چوہدری صاحب گاڑی کے پاس وہیں کھڑے ہیں۔

سعد نے ایک ہی سانس میں چوہدری صاحب کو سارا ماجرا سنا دیا۔ چوہدری صاحب نے افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ گاڑی کے ایک ٹائر میں ہوا نہیں ہے اس لیے یہ شہر تو نہیں جا سکتی۔

سعد کو سخت پریشانی لاحق ہوئی کیوں کہ اس کا بھائی شدید تکلیف میں تھا۔ وہ بھاگا ہوا گھر آیا اور والدین کو ساری صورتحال بتائی۔ حیدر کے والدین نے فورا فیصلہ کیا کہ اب ٹانگے کے ذریعے ہی فورا شہر پہنچا جائے تا کہ زخموں سے زیادہ خون نکلنے سے حیدر کی حالت زیادہ خراب نہ ہو جائے۔

راستے میں جب ٹانگے کے جھٹکے لگتے تو حیدر کے زخم اور زیادہ درد کرتے، تب اسے رہ رہ کر خیال آ رہا تھا کہ اگر اس نے چوہدری صاحب کی گاڑی سے ہوا نہ نکالی ہوتی تو کتنا اچھا ہوتا۔

حیدر کو اس کی شرارت کی سزا مل گئی تھی اور اسے احساس ہو گیا کہ شرارت سے دوسروں کو تکلیف دینا اچھا نہیں کیوں کہ یہ تکلیف خود کو بھی ہو سکتی ہے۔ اس کے بعد حیدر نے شرارت سے توبہ کی اور اچھا بچہ بن گیا۔

Comments are closed.

Translate »