Urdu Poems for Children (Kids) – 1- Bachon Ki Nazmain

بچوں کی دعا  ۔۔۔۔۔۔۔۔ از علامہ محمد اقبال

لب پے آتی ہے دعا بن کے تمنا میری

لب پہ آتی ہے دعا بن کے تمنا میری
زندگی شمع کی صورت ہو خدایا میری
دور دنیا کا مرے دم سے اندھیرا ہو جائے
ہر جگہ میرے چمکنے سے اجالا ہو جائے
ہو مرے دم سے یونہی میرے وطن کی زینت
جس طرح پھول سے ہوتی ہے چمن کی زینت
زندگی ہو مری پروانے کی صورت یا رب
علم کی شمع سے ہو مجھ کو محبت یا رب
ہو مرا کام غریبوں کی حمایت کرنا
دردمندوں سے ضعیفوں سے محبت کرنا
مرے اللہ! برائی سے بچانا مجھ کو
نیک جو راہ ہو اس رہ پہ چلانا مجھ کو

 —–

ہمد ر د ی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ از علامہ محمد اقبال

ٹہنی پہ کسی شجر کی تنہا

بلبل تھا کوئی اداس بیٹھا

کہتا تھا کہ رات سر پہ آئی

اڑنے چگنے میں دن گزارا

پہنچوں کس طرح آشیاں تک

ہر چیز پہ چھا گیا اندھیرا

سن کر بلبل کی آہ و زاری

جگنو کوئی پاس ہی سے بولا

حاضر ہوں مدد کو جان و دل سے

کیڑا ہوں اگرچہ میں ذرا سا

کیا غم ہے جو رات ہے اندھیری

میں راہ میں روشنی کروں گا

اللہ نے دی ہے مجھ کو مشعل

چمکا کے مجھے دیا بنایا

ہیں لوگ وہی جہاں میں اچھے

آتے ہیں جو کام دوسرں کے

—–

پر ندے کی فر یاد ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ از علامہ محمد اقبال

آتا ہے یاد مجھ کو گزرا ہوا زمانا

وہ باغ کی بہاریں وہ سب کا چہچہانا

آزادیاں کہاں وہ اب اپنے گھونسلے کی

اپنی خوشی سے آنا اپنی خوشی سے جانا

لگتی ہے چوٹ دل پر ، آتا ہے یاد جس دم

شبنم کے آنسوئوں پر کلیوں کا مسکرانا

وہ پیاری پیاری صورت ، وہ کامنی سی مورت

آباد جس کے دم سے تھا میرا آشیانا

آتی نہیں صدائیں اس کی مرے قفس میں

ہوتی مری رہائی اے کاش میرے بس میں!

کیا بد نصیب ہوں میں گھر کو ترس رہا ہوں

ساتھی تو ہیں وطن میں ، میں قید میں پڑا ہوں

آئی بہار کلیاں پھولوں کی ہنس رہی ہیں

میں اس اندھیرے گھر میں قسمت کو رو رہا ہوں

اس قید کا الہی! دکھڑا کسے سنائوں

ڈر ہے یہیں قفسں میں میں غم سے مر نہ جائوں

جب سے چمن چھٹا ہے ، یہ حال ہو گیا ہے

دل غم کو کھا رہا ہے ، غم دل کو کھا رہا ہے

گانا اسے سمجھ کر خوش ہوں نہ سننے والے

دکھے ہوئے دلوں کی فریاد یہ صدا ہے

آزاد مجھ کو کر دے ، او قید کرنے والے!

میں بے زباں ہوں قیدی ، تو چھوڑ کر دعا لے

—–

صبح کا وقت

 

اٹھو! بیٹا آنکھیں کھولو
بستر چھوڑو اور منہ دھولو
اتنا سونا ٹھیک نہیں
وقت کا کھونا ٹھیک نہیں
سورج نکلا تارے بھاگے
دنیا والے سارے جاگے
پھول کھلے خوش رنگ رنگیلے
سرخ رنگ ، سفید اور پیلے پیلے
تم بھی اٹھ کر باہر جاؤ
ایسے وقت کا لطف اٹھاؤ

—–

چنو اور منو

 

چنا منا دو چوزے تھے
اک دن دونوں گھر سے نکلے
دانہ چگنے باغ میں آئے
چنا اک دانے پہ لپکا
منے نے اک کیڑا دیکھا
پتلا پتلا لمبا لمبا
منے نے چنے کو بلایا
دونوں نے مل کر زور لگایا
کیڑا باہر کھنچتا آیا
کھنچتا آیا کھنچتا آیا
باہر نکلا تو کیا دیکھا
اتنا موٹا تازہ چوہا
چنا منا ڈر کر بھاگے
چنا پیچھے منا آگے

 —–

دعا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ از ۔سید حسن طالب۔

ہمیں علم و ہنر کی اے خدا بھر پور دولت دے
متاع عقل دے ، سنجیدگی دے اور متانت دے
غریبوں ، بے کسوں ، مجبور و محتاجوں سے الفت دے
یتیموں ، بے سہاروں ، درد مندوں سے محبت دے
ہمیں ہو پیار، کاغذ سے قلم سے ہو دلی الفت
ذہن میں ہو سبق ہر دم ہمیں ایسی ذہانت دے
کہا ماں باپ کا ، استاد کا مانیں خوشی سے ہم
ہمارے دل میں ایسا جذبہ شوق اطاعت دے
عزیزوں سے ملیں ہم پیار و الفت سے محبت سے
بزرگوں کے لئے دل میں ہمارے شوق خدمت دے
تمہارے نام کا ڈنکا بجائیں سارے عالم میں
ہمارے ناتواں بازو میں ایسی زور قوت دے
دعا طالب کی ہے اے قاضی الحاجات دو عالم
جہاں میں حاہ و حشمت ، عزو رفعت ، شان و شوکت دے

Categories :

Comments are closed.

Translate »