Urdu Story – Sachi Muhabat سچی محبت

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک  لڑکے علی کو صبا سے محبت ہو گئی- لیکن علی کا تعلق ایک پسماندہ خاندان سے تھا- اس لیےصبا کے والدین خوش نہیں تھے- علی نے یہ ارادہ کیا کہ وہ صبا کے ماں باپ کو راضی کرلے گا-تھوڑے عرصے بعد صبا کے والدین یہ سمجھ گئے کہ علی ایک بہت ہی اچھا لڑکا ہے اور وہ صبا کے لئے ایک بہترین جیون ساتھی ثابت ہوگا- لیکن ایک اور وجہ بھی تھی وہ یہ کہ علی ایک سپاہی تھا- اچانک جنگ چھڑ گئی اور علی کو ایک سال کےلئے دوسرے ملک جانا پڑا- جانے سے ایک ہفتہ پہلے علی صبا کے سامنے اپنے گٹھنوں پر بیٹھ گیا اور اس سے پوچھا کہ کیا تم مجھ سے شادی کروگی؟ صبا کی آنکھوں سے آنسو چھلک پڑے اور اس نے ہاں کردی- اسی ہفتے دونوں کی منگنی ہوگئی- یہ طے پایا کہ جب علی ایک سال بعد واپس آئیگا تو دونوں کی شادی کردینگے- علی کے جانے کے کچھ ہی دن بعد صبا کا ایک بہت برا ایکسیڈنٹ ہوگیا- جب اسے ہوش آیا تو اسکے والدین رو رہے تھے وہ سمجھ گئی کے کچھ نہ کچھ گڑبڑ ضرور ہے- پھر اسے پتہ چلا کے اسے ایک دماغی زخم لگا ہے جس کی وجہ سے اسکے دماغ کا وہ حصہ جو اسکے چہرے کے عضلات کو قابو میں رکھتا تھا، اب خراب ہوچکا ہے- اسکا چہرہ جو پہلے بہت خوبصورت تھا اب بگڑ چکا تھا- صبا جب بھی اپنے آپ کو شیشے میں دیکھتی بہت روتی تھی- وہ خود سے کہتی کہ کل میں خوبصورت تھی اور آج میں بھیانک ہو گئی ہوں- اس کے جسم پر بھی بہت سارے بدنما داغ پڑ گئے تھے-

بہت سوچنے کے بعد اس نے یہ فیصلہ کیا کہ وہ اپنے منگیتر کو شادی کے وعدے سے آزاد کردے گی- وہ جانتی تھی کہ اب علی کو اس کی ضرورت نہیں ہوگی- صبا نے فیصلہ کیا کہ وہ علی کی زندگی سے دور چلی جائے گی، اسے بھلا دے گی اور پھر پلٹ کر نہیں دیکھے گی-

اس ایک سال میں علی نے صبا کو بہت خط لکھے- کئی بار اسے کال بھی کی پر صبا نے اس کی کسی کال کسی خط کا کوئی جواب نہ دیا-ایک سال گزر چکا تھا- ایک دن صبا کی امی اس کے کمرے میں آئیں اور اسے بتایا کے علی جنگ سے واپس آگیا ہے- یہ سن کر صبا کے تو جیسے پاؤں کے نیچے سے زمین ہی نکل گئی تھی- وہ چیخنے چلاّنے لگی- اس نے اپنی امی سے کہا کہ وہ علی کو اس کے بارے میں کچھ نہ بتائیں اور نہ ہی اسے یہ بتائیں کہ میں گھر میں موجود ہوں- صبا کی امی نے اسے بتایا کے علی شادی کر رہا ہے اور ایک شادی کا کارڈ اس کے ہاتھ میں پکڑا دیا- یہ سن کر صبا کا دل جیسے ڈوب سا گیا کیونکہ وہ جانتی تھی کے اپنی لاکھ کوشش کے باوجود وہ آج بھی علی سے محبت کرتی ہے- صبا نے بہت دکھ اور ہمت کے ساتھ شادی کا کارڈ کھولا اور پھر وہ اس پراپنانام دیکھ کر حیران رہ گئی- اس نے امی سے پوچھا کی یہ سب کیا ہے؟ اسی لمحے علی پھولوں کا گلدستہ لئے اسکے کمرے میں داخل ہوا اور آج پھر اپنے گٹھنوں پر بیٹھ کر اس نے صبا سے پوچھا کے کیا وہ اس سے شادی کریگی؟ صبا نے اپنا چہرہ ہاتھوں سے چھپالیا اور کہا کے وہ اب بدصورت ہوگئی ہے- تب علی نے اسے بتایا کے اسکے پوچھے بغیر اسکی امی نے اسکی تصاویر علی کو بھیج دی تھیں- جب میں نے وہ تصاویر دیکھیں تو مجھے کچھ بھی بدلا بدلا نہیں لگا- تم اب بھی میرے لئے وہی صبا ہو جس سے میں پیار کرتا تھا اور اب بھی میرے لیے اتنی ہی خوبصورت ہو جتنی پہلے تھیں- کیونکہ میں تم سے سچی محبت کرتا ہوں- صبا یہ سب جاننے کے بعد بہت خوش ہوئی اور شادی کیلئے رضامند ہوگئی-

Categories :

Comments are closed.

Translate »