Urdu Kahani – بے غرض محبت

ندا کھانا نہیں کھا رہی، اپنی بیوی کی یہ بات سن کر اس نے اخبار چھوڑا اور اپنی بیٹی کے پاس آگیا- اسکی ایک ہی بیٹی تھی جسکا نام ندا تھا- وہ بہت ڈری ہوئی لگ رہی تھی اسکی آنکھوں سے آنسو نکل رہے تھے- اسکے سامنے ایک پیالہ رکھا تھا جو دلیے سے بھرا ہوا تھا-

ندا ایک بہت اچھی اور ہونہار بچی تھی- وہ ابھی آٹھ سال کی تھی- اسے دلیہ پسند نہیں تھا- ندا کی امی پرانے خیالات کی تھیں اور وہ دلیے کو بچوں کیلئے طاقتور غذا تصور کرتی تھیں- اس آدمی نے وہ پیالہ اٹھایا اوراپنی بیٹی کو کہا کہ تم تھوڑا بہت یہ دلیہ کیوں نہیں کھالیتیں- اگر تم نہیں کھاؤ گی تو تمہاری امی مجھ پر چیخیں گی تو میرے لئے تھوڑا سا کھا لو- وہ سمجھ سکتا تھا کہ پیچھے اسکی بیوی اسے گھور رہی ہے- ندا چپ ہوگئی، اس نے اپنے آنسو پونچھے اور اپنے پاپا سے کہا کہ ٹھیک ہے میں یہ دلیہ تھوڑا سا نہیں بلکہ پورا کھا لوں گی لیکن پاپا آپ کو مجھے وہ دینا پڑے گا جو میں مانگوں گی- اس کے پاپا نے اپنا ہاتھ ندا کے ہاتھ پر رکھا اور اس سے وعدہ کرلیا- ندا نے اسرار کیا کہ آپ امی سے کہیں کہ وہ بھی مجھ سے وعدہ کریں- ندا کی امی نے بھی اس سے وعدہ کر لیا-

ندا کچھ پریشان تھی اس کے پاپا نے کہا کہ بیٹا آپ کسی مہنگی چیز کے لئے فرمائش مت کرنا، آپ جانتی ہیں کہ آپ کے پاپا کے پاس اس وقت اتنے پیسے نہیں ہیں کہ وہ آپکی کوئی مہنگی فرمائش پوری کرسکیں- ندا نے کہا نہیں پاپا میں کسی مہنگی چیز کی فرمائش نہیں کرونگی-

بڑی مشکل سے ندا نے وہ سارا دلیہ ختم کیا- وہ آدمی اپنی بیوی سے کچھ خفا تھا کیونکہ وہ زبردستی ندا کو وہ کھلا رہی تھی جو اسے بالکل پسند نہیں تھا- ندا دلیہ ختم کرنے کے بعد آنکھوں میں امید لئے اپنے پاپا کے پاس آئی- اس کے پاپا کی تمام تر توجہ اپنی بیٹی پر تھی- ندا نے اپنے پاپا سے کہا کہ میری فرمائش یہ ہے کہ میں اس اتوار کو اپنے سارے بال کٹوا کر گنجی ہونا چاہتی ہوں- اسکی امی تو یہ سن کر چیخ پڑیں- انھوں نے کہا کہ ایک لڑکی وہ بھی بنا بالوں کے یہ ناممکن ہے- یہ بہت زیادہ ٹی وی دیکھنے لگی ہے اور یہ اسی کا اثر ہے میں کبھی اسے اجازت نہیں دونگی-

ندا کے پاپا نے کہا کہ آپ کوئی اور فرمائش کرلو ہمیں ایسے آپ اچھی نہیں لگوگی- ندا نے کہا نہیں مجھے اور کچھ نہیں چاہئے- اسکے پاپا نے اسے سمجھانے کی کوشش کی لیکن ندا نے روتے ہوئے کہا کہ آُپ نے دیکھا کہ وہ کھانا کھانا میرے لئے کتنا مشکل تھا- اور آپ نے وعدہ کیا تھا کہ آپ میری بات مانیں گے- آپ نے ہی مجھے سکھایا ہے کہ وعدہ ہمیشہ پورا کرو اور کبھی نہ توڑو تو اب کیا آپ اپنا وعدہ توڑ دیں گے؟ اس کی امی اس پر غصہ ہونے لگیں تو اس کے پاپا بولے کہ ہمیں اپنا وعدہ پورا کرنا ہوگا ورنہ ہماری بیٹی اپنے وعدے کو کبھی پورا نہیں کیا کرے گی – انھوں نے ندا سے کہا کہ آپ کی فرمائش میں پوری کروں گا-

پیر کو ندا کو اسکے پاپا نے اسکول چھوڑا- اس دن ندا پہلی دفعہ بغیر بالوں کے اپنی کلاس کی جانب جا رہی تھی- وہ واپس مڑی اور اپنے پاپا کو ہاتھ ہلایا- اسی وقت ایک لڑکا کار سے اترا اور چلایا کہ ندا رکو میں بھی آرہا ہوں-اسکے پاپا نے دیکھا کہ اس لڑکے بھی بال نہیں تھے- تبھی ایک عورت بغیر اپنا تعارف کروائے اسکے پاس آکر بولی کہ آپکی بیٹی ندا بہت عظیم ہے- یہ لڑکا میرا بیٹا ہے، اسے سرطان ہوا اور وہ ایک مہینے اسکول نہیں آیا- اسکے سارے بال بھی گر گئے- وہ اسکول نہیں آنا چاہتا تھا کہ سب اسکا مذاق اڑائیں گے- پچھلے ہفتے ندا اس سے ملی اور اسے کہا کہ وہ سب سنبھال لے گی- پر مجھے اندازہ بھی نہیں تھا کہ وہ اپنے اتنے پیارے بال میرے بیٹے کیلئے قربان کردی گی- آپ اور آپکی بیوی بہت خوش قسمت ہیں کہ آپ کو ندا جیسی اولاد ملی ہے- یہ سب سن کرمیری آنکھوں سے آنسو چھلک پڑے اور میں نے کہا کہ ندا آج تم نے اپنے پاپا کو سکھایا ہے کہ بے غرض محبت کیسی ہوتی ہے-

Categories :

Comments are closed.

Translate »