Youm e Difa (Urdu) – Pakistan Defence Day – September 6, 1965 -یوم دفاع ۔ یوم تفکر

یوم دفاع  ۔ یوم تفکر

کمزوروں کو دبانا اور انہیں  اپنا ماتحت رکھنا نہ صرف انسانی بلکہ حیوانی جبلت بھی ہے۔ شاید یہی وہ فطرت ہے جس کی وجہ سے تاریخ انسانی میں   جنگوں کی بہتات نظر آتی ہے۔ ہر دور میں ایک قوم نے دوسری قوم، ایک قبیلے نے دوسرے قبیلے اور ایک ملک نے دوسرے ملک کو زیر کرنے، اسے اپنا باجگزار بنانے اور اس کے وسائل کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کی ہے۔ جن قوموں نے اپنا دفاع مضبوط کیا دنیا میں ان کا غلغلہ رہا اور جنہوں نے اپنے وسائل اپنی تعمیر و ترقی اور دفاعی صلاحیت کے حصول کے بجائے عیش و عشرت میں صرف کیا غلامی کی زندگی ان کا مقدر ٹھہری۔

وطن عزیز پاکستان ہندوستان کی تقسیم کے نتیجے میں وجود میں آیا تھا، لہذا ہندووں کی جانب سے اس کے وجود کو تسلیم نہ کرنا اور ایک بار پھر اسے عظیم ہندوستان کا حصہ بنانے کی خواہش اور کوشش ایک فطری امر تھا۔ نیز ان کا یہ خیال بھی ہو گا کہ تقسیم کے وقت جس بندر بانٹ کے نتیجے میں سارے اہم وسائل اس نے اپنے پاس رکھے تھے اس کے بعد پاکستان ایک بہت ہی کمزور ملک ہو گا لہذا کسی بھی وقت اس پر حملہ کر کے اسے اپنا باجگزار بنایا جا سکتا ہے۔ نیز آغاز ہی سے پاکستان کی قیادت جن ہاتھوں میں رہی انہوں نے وطن عزیز کا جو حشر کر رکھا تھا اس کے پیشے نظر کسی کی بھی رالیں ٹپک سکتی تھیں اور کوئی بھی پاکستان کو ایک ترنوالہ سمجھ کر ہڑپ کرنے کے لیے حملہ آور ہو سکتا تھا۔ بھارت ویسے بھی ہمارا روایتی حریف تھا اوپر سے ہمارے اپنے حالات بھی بہت پتلے تھے، اس نے موقع غنیمت جانا اور لاہور میں ناشتے کے ارادے سے چل نکلا۔

لیکن شاید انہیں اس بات کا اندازہ نہ ہو کہ شیر چاہے سویا ہوا ہو وہ شیر ہی ہوتا ہے اور اس سے پنجہ آزمائی کا نتیجہ ہمیشہ نقصان کی صورت میں ہی نکلتا ہے۔ یہی کچھ یہاں بھی ہوا، وطن عزیز کے جانبازوں نے جرآت و بہادری کے وہ جوہر دکھائے کہ اپنے سے کئی گناہ زیادہ فوج اور کیل کانٹے سے لیس فوج کو شکست سے دو چار کر دیا، ان کے جدید جنگی ساز و سامان اور جہازوں کے مقابلے میں جب پاکستانی نوجوان پرانے جہازوں اور توپوں کے ساتھ برسر پیکار تھے تو ممولے کو شاہیں سے لڑانے کا منظر دکھائی دے رہا تھا۔  یہ  6 ستمبر 1965ء کا  دن تھا۔ بھارت لاہور پر اپنے جھنڈے گاڑھنے نکلا تھا اور پاکستانی سپوتوں کی جواں مردی کے باعث یہ دن تاریخ میں بھارت  کے لیے ‘یومِ ہزیمت’ بن کر رہ گیا اور وطن عزیز پاکستان اس دن کو ہر سال ‘یوم دفاع’ کے طور پر مناتا ہے۔

جنگ کبھی بھی کوئی پسندیدہ چیز نہیں رہی، اور عقل مند قومیں حتی الوسع اس سے بچنے کی کوشش کرتی ہیں۔ لیکن طاقت کا نشہ ایک ایسی چیز ہے جو کبھی چین سے نہیں بیٹھنے دیتا، خاص طور پر جب بات روایتی حریفوں کی ہو۔ اس طرح کی صورتحال سے بچنے کی صرف دو ہی صورتیں ہیں، ایک یہ کہ دونوں ہر طرح کے جنگی ساز و سامان سے تہی دامن ہوں، اور دوسری یہ کہ دونوں کے پاس یکساں صلاحیت ہو، صرف اسی صورت میں مستقبل میں برابری کی سطح کے تعلقات بھی قائم ہو سکتے ہیں اور جنگ و جدل سے بھی بچا جا سکتا ہے کیوں کہ ہر ایک کو اندازہ ہو گا کہ جتنا کچھ میرے پاس ہے اتنی ہی صلاحیت اگلے کے پاس بھی ہے۔ لیکن اگر ایک کے پاس طاقت زیادہ ہو گی تو پھر جنگ کا امکان ہر وقت سر پر منڈلاتا رہے گا۔

پاکستان اور بھارت پڑوسی ہیں۔ پڑوس ایک ایسا تعلق ہے جو چاہ کر بھی ختم نہیں کیا جا سکتا، پڑوسی ممالک میں سے ہر ایک کی ترقی کا دارو مدار اس کے اپنے پڑوسیوں کے ساتھ تعلقات پر منحصر ہوتا ہے۔ اگر تعلقات اچھے ہیں، امن و امان کی فضا قائم ہے اور جنگ و جدل کے امکانات معدوم ہیں تو پھر ملک اپنے وسائل کو تعمیر و ترقی، تعلیم، مواصلات، صحت اور دیگر تعمیری شعبوں میں صرف کرے گا۔ لیکن اگر معاملہ اس کے بر عکس ہے اور حالات ہمیشہ تناؤ کا شکار اور کشیدہ رہتے ہیں تو پھر وسائل کا ایک بہت بڑا حصہ دفاعی حکمت عملی اور جنگی ساز و سامان میں لگتا رہے اور عوام غربت کے بوجھ تلے اور ملک قرضوں کے بوجھ تلے دبتا ہی چلا جائے گا۔

ہر سال یوم دفاع آتا ہے اور گزر جاتا ہے، کچھ روایتی سرگرمیوں کے سوا کوئی تبدیلی نظر نہیں آتی، حالانکہ ایسے دن قوموں کی تاریخ میں بڑی اہمیت کے حامل ہوا کرتے ہیں۔ اس دن یہ سوچنا چاہیے کہ وہ کون سی کمزوریاں اور خامیاں تھی جن کی وجہ سے دشمن ملک کو ہم پر حملہ آور ہونے کی جرآت ہوئی؟ دفاعی حکمت عملی میں ہم سے کیا کوتاہیاں رہ گئیں؟ کون سے اقدامات کیے جائیں تو جنگ و جدل کے امکانات کم کیے جا سکتے ہیں؟

پاکستان اور بھارت نے رہتی دنیا تک ساتھ رہنا ہے کیوں کہ ان کا تعلق کوئی میاں بیوی کا نہیں کہ طلاق سے سارے تعلق ختم ہو جائیں گے بلکہ پڑوس کا ہے۔ اس پڑوس کے تعلق کو بہتر بنانے کے لیے برابری کی سطح پر مذاکرات اور معاملات طے کرنا ضروری ہے، اور یہ برابری کی سطح صرف اسی صورت میں قائم رہ سکتی ہے جب دونوں کے پاس یکساں صلاحیت ہو۔ اس وقت بھارت کو اپنی فوقیت کا زعم ہے اور کئی حوالوں سے اس کا یہ زعم درست بھی ہے، پاکستان کو پہلے اپنی صلاحیتوں کو بہتر بنانے، اپنے گھر کے حالات درست کرنے اور اپنا وقار بحال کرنے کی ضرورت ہے تا کہ خطے میں برابری کی سطح کے تعلقات قائم ہوں اور امن و امان کا بول بالا ہو۔

 ( تحریر: راجہ اکرام الحق)

Categories :
Tags :

Comments are closed.

Translate »