Urdu Ghazal – اردو غزل

اردو زبان باقی تمام علوم میں جس قدر پسماندہ اور غیر مستعمل ہے ادب کے ذخیرے کے لحاظ سے اتنی ہی عظیم ہے۔ تمام اصناف ادب چاہے وہ نثر ہو یا نظم، پھر نثر میں ناول ہو یا افسانہ، کہانی ہو یا آپ بیتی، سفر نامہ ہو یا مکاتیب، اسی طرح شعری اصناف میں غزل ہو یا نظم، قصیدہ ہو یا رجز الغرض ادب کی تمام ممکنہ اصناف میں اس نے نہ صرف نام کمایا بلکہ محبان ادب کے لیے ایک بہت بڑا وقیع ذخیرہ فراہم کرنے میں مدد کی۔

اصناف ادب کے ساتھ میں سے شعر اور اصناف شعر میں غزل ایک ایسی صنف ہے جس کے چاہنے والے، لکھنے والے، پڑھنے والے تعداد میں کثیر ہیں۔ غزل سے اس دلچسپی کی وجوہات ایک سے زائد ہو سکتی ہیں تاہم بادی النظر میں جو وجہ سمجھ آتی ہے وہ یہ ہے کہ غزل کا ترنم، موضوعات کا عام دلچسپ ہونا اور دل اور دنیائے دل سے متعلق ہونا ہے۔ شاید یہی وہ خوبیاں ہیں جنہوں نے غزل نہ صرف اہل علم کے لیے  بلکہ عوام الناس کے لیے بھی  یکساں دلچسپی کی حامل ہے۔ اصناف سخن میں غزل کی کامیابی اور پسندیدگی کی ایک اور وجہ یہ بھی ہے کہ اس میں  ہر دور کے حالات کے تقاضوں اور تہذیبی رویوں کی  تبدیلیوں کو اپنے اندر سمونے کی صلاحت موجود ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس نے ہر دور کے تقاضوں کو بخوبی نبھایا، ہمارے مزاج، ہمارے حالات او تہذیبی ریوں کو لے کر ساتھ ساتھ چلتی رہی۔ جبکہ دیگر اصنافِ سخن مثلا قصیدہ و مرثیہ وغیرہ اب کسی حد تک متروک اور اگر متروک نہیں تو کم یاب ہوتی جا رہی ہیں۔

اردو غزل کی مقبولیت میں جہاں مشاعروں اور جرائد و رسائل نے کردار ادا کیا وہیں مغنیوں اور گلوکاروں نے بھی اس کے شائقین کی تعداد میں خاطر خواہ اضافہ کیا۔ غزل بجائے خود ایک دلچسپی اور کشش کی چیز ہے لیکن جب خوبصورت ترنم اور لے کے ساتھ، الفاظ کے زیر و بم سے جذبات کے تار چھیڑتے ہوئے گائی جائے تو سننے والا متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔

غزل مفہوم و معنیٰ:۔ یوں تو غزل کے معنیٰ عورتوں سے باتیں کرنے کے بتائے جاتے ہیں اور یہ بھی عین ممکن ہے کہ ابتداء میں غزل کے عنوانات صنف نازک کے گرد ہی گھومتے ہوں لیکن بعد کے ادوار میں غزل کا دائرہ وسعت اختیار کرتا گیا اور آج  کی غزل کا دائرہ انسان اور اس سے متعلق تمام ہی موضوعات و مسائل کو محیط ہے۔ غزل اس ہرن کی آواز کو بھی کہتے ہیں جو وقت شکار نکالتی ہے۔ اس معنی کی غزل کے ساتھ مماثلت کچھ یوں ہے کہ شاعری بطور خاص صنف غزل تب ہی نکلتی ہے جب دل ناداں کسی شکاری کے ہاتھ لگ کر زخم رسیدہ ہوتا ہے۔  اس درد کے عالم میں نکلی ہوئی غزل بڑی پر اثر ہوتی ہے۔

غزل کی ہیئت تشکیلی:- غزل کے پہلے شعر کو مطلع کہتے ہیں جس میں دونوں مصرعے ہم قافیہ و ہم ردیف ہوتے ہیں۔ اور پھر آخر تک ہر شعر کے دوسرے مصرعے کا ردیف اور قافیہ مطلع جیسا یعنی اس  کا ہم وزن ہوتا ہے۔  غزل کا آخری شعر مقطع کہلاتا ہے جس میں شاعر اپنا تلخص بھی ذکر کرتا ہے۔

غزل اور نظم کا بنیادی فرق:- غزل اور نظم کا سب سے بنیادی فرق یہ ہے کہ ایک نظم ایک ہی موضوع  پر محیط ہوتی ہے جبکہ غزل کا ہر شعر علیحدہ موضوع ہو سکتا ہے۔ یوں ایک غزل میں کئی موضوعات بیک وقت شامل ہو سکتے ہیں۔

اردو غزل کا آغاز:- کہا تو یہ جاتا ہے کہ اردو غزل کا آغاز ولی دکنی سے ہوا اور اردو میں اس روایت کے وہی بانی ہیں لیکن تحقیق بتاتی ہے کہ ان سے قبل بھی دکن میں بہت سے شعراء غزل کے میدان میں مشق سخن کرتے رہے ہیں۔ ہاں یہ سچ ہے کہ ولی دکنی نے غزل کو ایک نیا رنگ دیا اس میں تہذیبی قدروں کو سمو کر اس کے دائرے کو وسعت دی اور اس کو زمانے کے ساتھ چلنے اور معاشرے کے مسائل کو اس کے ذریعے اجاگر کرنے کی طرح ڈالی۔

اس کے بعد ایک سے بڑھ کر ایک شاعر آئے جنہوں نے اردو غزل میں نہ صرف یہ کہ نئے رجحانات متعارف کروائے بلکہ غزل کو چار چاند لگا دیے۔

ولی دکنی سے لے کر آج تک کے شعراء کے دواوین اٹھا کر دیکھیں تو غزل کے ایسے ایسے نمونے پڑھنے کو ملتے ہیں کہ شعری ذوق کے حامل افراد عش عش کر اٹھتے ہیں۔ اپنے اپنے دور میں میر تقی میر، مرزا غالب، میر امن دہلوی، مولانا الطاف حسین حالی، داغ، فراق، گورکھپوری، عدم، حسرت موہانی، میر درد، اور دیگر نے غزل کی بہت خدمت کی اور غزل نے انہیں شہرت کے بام عروج تک پہنچنے  میں مدد دی۔

غزل کا پہلا دور دکن سے شروع ہوا ، وہاں  اس زمانے کے شعراء میں خارجیت کا پہلو غالب تھا اور داخلی جذبات کے حوالے سے تقریبا عاری تھے۔ اس خارجی عنصر کے غلبے ہی کا نتیجہ ہے کہ ان کی شاعری میں سوز و گداز اور غم کی وہ کیفیت اور وہ  گہرائی و گیرائی نظر نہیں آتی جو عموما شاعری کا خاصہ سمجھی جاتی ہے۔ ولی دکنی نے غزل کو نئے موضوعات دیے تھے اور اہل دکن نے شاید  ان کے سہارے خارجیت اور ظاہریت کو ہی ترجیح دی۔

دکن کے بعد اردو شاعری  دہلی کی جانب منتقل ہو گئی ۔ اگرچہ اس زمانے میں سرکاری زبان فارسی تھی اور زیادہ تر شعراء فارسی میں ہی شاعری کو ترجیح دیتے تھے۔ یہاں تک کہ مرزا غالب بھی اپنے فارسی کلام پر فخر کرتے تھے اور اردو کلام بوقت ضرورت ہی  صادر فرماتے تھے۔ لیکن جب ولی دکنی نے دہلی کا دورا کیا تو اس کے بعد شعراء کا اردو کی جانب رجحان بڑھنا شروع ہو گیا۔

دہلی کے بعد غزل نے لکھنئو کا رخ کیا اور وہاں غزل کو مقام دلوانے کا سہرا مصحفی کے سر جاتا ہے۔ یوں وہاں غزل کا پہلا دور مصحفی، انشا، جرات اور رنگین کے گرد گھومتا ہے۔  وہاں اس سے  قبل پرانے موضوعات ہی زیر غزل آتے تھے لیکن مصحفی اور دیگر شعراء نے وہاں نئے موضوعات متعارف کروائے ۔ اس کے بعد آتش اور ناسخ کا دور آیا جنہوں نے اپنے  پیش رووں کے راستے پر  ہی آگے کا سفر کیا ۔ لیکن اس کے بعد وہاں کی غزل میں  پاکیزگی کا عنصر کم سے کم تر ہوتا چلا گیا اور  محبوب کی شخصیت جو پہلے معانی کے پردے میں چھپی ہوتی تھی کھل کر سامنے آنے لگی۔

اس کے بعد جب غالب کا دور آیا تو اگرچہ اس پر لکھنو کے اثرات تھے لیکن اس نے کچھ نئے موضوعات جو عموما خشک سمجھے جاتے ہیں وہ اس میں شامل کیے، غزل میں فکر و تفکر کا عنصر آیا ۔ غالب نے خدا، انسان، کائنات، فکر و فلسفہ جیسے موضوعات کو اپنی غزلوں میں جگہ دی اور خوب نبھایا۔

جدید غزل کا آغاز:- اردو غزل کو جدید آہنگ عطا کرنے کا سہرا الطاف حسین حالی کے سر جاتا ہے۔ حالی نے بے معنیٰ غزل کو مقصدیت کا  تحفہ دیا  اور پھر اس کے بعد غزل کو مقصدیت کے لیے جس نے سب سے بہترین انداز سے استعمال کیا وہ علامہ محمد اقبال ہیں۔ انہوں نے شعر و غزل کی مدد سے ایک پوری قوم میں جوش و ولولے کی ایسی آگ پھونک دی کہ وہ سب  کچھ تیاگ کر ایک اسلامی ریاست کے قیام کی جد و جہد میں شامل ہو گئے۔ وہی غزل جو کبھی زلف گرہ گیر کی اسیر تھی  ایک قوم کی بیداری و خود داری  کا سبب بن گئی۔

پاکستان بننے کے بعد  پاکستان میں غزل پر مختلف ادوار آئے جس میں مختلف رجحانات کو پذیرائی ملی ۔ کچھ شعراء چونکہ قبل از تقسم  بر صغیر شاعری کر رہے تھے لہذا ان کے ہاں کلاسیکی غزل کا عنصر بعد بھی  عیاں رہا۔ جن میں حفیظ جالندھری اور  اور حفیظ ہوشیار پوری کے نام قابل ذکر ہیں۔ حفیظ جالندھری  پر کسی حد تک علامہ اقبال کا اثر تھا جو ان کے کلام میں نظر آتا ہے ۔ لیکن انہوں نے کلاسیکی رجحان آخر تک اپنائے رکھا۔ حفیظ جالندھری کی شاعری میں ترنم کی خصوصیت ان کی نمایاں خوبی ہے۔

اس کے بعد پاکستانی غزل کے جو ادوار و مراحل ہیں ان پر  آئندہ کی کسی تحریر میں کھل کر اظہار خیال کریں گے۔

(تحریر: راجہ اکرام الحق)

Categories :

Comments are closed.

Translate »